مسند الإمام الشافعي
كتاب الحج— حج کے مسائل کا بیان
بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى: لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ، وَمَا لَيْسَتْ لَهُ رُخْصَةٌ وَمَا يُكَفَّرُ عَلَيْهِ النَّعَمُ عِنْدَ الْبَيْتِ باب: اللہ کا فرمان : ”حالتِ احرام میں شکار نہ کرو“ اور وہ جانور جن کے شکار کی اجازت نہیں اور کعبہ کے پاس چوپایوں کا فدیہ
حدیث نمبر: 881
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: فَجَزَاءٌ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ أَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ [الْمَائِدَةِ: 95] . قَالَ: مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ أَصَابَهُ فِي حَرَمٍ يُرِيدُ الْبَيْتَ كَفَّارَةُ ذَلِكَ عِنْدَ الْبَيْتِ.حافظ محمد فہد
ابن جریج سے روایت ہے فرمایا، میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا: ”اور فدیہ واجب ہے اس جانور کے مساوی جس کو اس نے قتل کیا، جس کا فیصلہ تم میں سے دو قابل اعتبار شخص کریں (خواہ وہ فدیہ چوپایوں میں سے ہو) جو ہدی کے طور پر کعبہ تک پہنچایا جائے یا کفارہ کے طور پر مساکین کو کھانا کھلا دیا جائے۔“ (المائدہ: 95) عطاء رحمہ اللہ نے کہا، اس لیے کہ اس نے حرم میں اس جانور کا شکار کیا ہے اور وہ بیت اللہ کا ارادہ بھی رکھتا ہے تو اس کا کفارہ بھی بیت اللہ کے پاس ہی ادا کرنا ہے۔