حدیث نمبر: 861
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ: أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ يَعْلَى أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ أَنَّهُ قَالَ: بَيْنَمَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَغْتَسِلُ إِلَى بَعِيرٍ وَأَنَا أَسْتُرُ عَلَيْهِ بِثَوْبٍ إِذْ قَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: يَا يَعْلَى، اصْبُبْ عَلَى رَأْسِي، فَقُلْتُ: أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ أَعْلَمُ. فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: وَاللَّهِ مَا يَزِيدُ الْمَاءُ الشَّعَرَ إِلَّا شَعْثًا فَسَمَّى اللَّهَ تَعَالَى ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ.
حافظ محمد فہد

یعلی بن امیہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک اونٹ کی اوٹ میں غسل کر رہے تھے اور میں نے ان پر ایک کپڑے سے پردہ کر رکھا تھا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے یعلی! میرے سر پر پانی ڈالو“، تو میں نے کہا: ”امیر المومنین بہتر جانتے ہیں۔“ پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! پانی بالوں کو پراگندگی میں ہی زیادہ کرتا ہے۔“ پھر اللہ تعالیٰ کا نام لے کر اپنے سر پر پانی ڈالا۔

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الحج / حدیث: 861
تخریج حدیث اسناده ضعيف لإنقطاعة بين عطله اخرجه البيهقي : 5 / 63 ـ وفي المعرفة السنن والآثار له (2867)۔