حدیث نمبر: 821
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ مُجَاهِدٍ: أَنَّهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُظْهِرُ مِنَ التَّلْبِيَةِ: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ. قَالَ: حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ وَالنَّاسُ يُصْرَفُونَ عَنْهُ، كَأَنَّهُ أَعْجَبَهُ مَا هُوَ فِيهِ، فَزَادَ فِيهِ: لَبَّيْكَ إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَةِ. قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: وَحَسِبْتُ أَنَّ ذَلِكَ يَوْمَ عَرَفَةَ.
حافظ محمد فہد

مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے تلبیہ سے ظاہر فرماتے: “میں حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں۔ میں حاضر ہوں، بے شک تمام تعریفیں اور نعمتیں تیرے لیے ہیں اور تیری ہی بادشاہی ہے تیرا کوئی شریک نہیں فرمایا حتی کہ ایک دن جب لوگ واپس آرہے تھے تو گویا اس کے الفاظ نے آپ کو خوش کر دیا، تو آپ نے اس میں یہ الفاظ زیادہ کر دیئے۔ میں حاضر ہوں، اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے”۔ ابن جریج نے کہا: میرے خیال میں یہ عرفہ کا دن تھا۔

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الحج / حدیث: 821
تخریج حدیث اسناده ضعيف لإرساله : اخرجه البيهقي : 455 ۔ وفى المعرفة السنن والآثار له (2813)۔