مسند الإمام الشافعي
كتاب الحج— حج کے مسائل کا بیان
بَابُ التَّلْبِيَةِ وَلَفْظِهَا باب: تلبیہ (لبیک) اور اس کے الفاظ کا بیان
حدیث نمبر: 818
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ تَلْبِيَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَبَّيْكَ [ ص: 197 ] اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ. قَالَ نَافِعٌ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَزِيدُ فِيهَا: لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ.حافظ محمد فہد
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا تلبیہ یہ تھا: اے اللہ ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، بے شک تمام تعریفیں اور نعمتیں تیرے لیے ہیں اور بادشاہی تیرے لیے ہے تیرا کوئی شریک نہیں۔ نافع نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس میں ان الفاظ کا اضافہ کرتے ، میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، اور تیری عبادت سے موافقت کرتا ہوں، اور (ہر قسم) خیر تیرے ہاتھوں میں ہے۔ (ہر قسم کی) رغبت اور عمل تیری طرف ہے۔ (یعنی تیرے لیے ہے)