مسند الإمام الشافعي
كتاب الحج— حج کے مسائل کا بیان
بَابُ التَّمَتُّعِ باب: حجِ تمتع (عمرہ اور حج الگ الگ کرنا) کا بیان
قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِهِ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّهُ قِيلَ لَهُ، كَيْفَ تَأْمُرُ بِالْعُمْرَةِ قَبْلَ الْحَجِّ وَاللَّهُ تَعَالَى يَقُولُ: وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ [الْبَقَرَةِ: 196] ؟ فَقَالَ: كَيْفَ تَقْرَءُونَ إِنَّ الدَّيْنَ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ أَوِ الْوَصِيَّةَ قَبْلَ الدَّيْنِ؟ قَالُوا: الْوَصِيَّةُ قَبْلَ الدَّيْنِ. قَالَ: فَبِأَيَّتِهِمَا تَبْدَءُونَ، قَالُوا: بِالدَّيْنِ، قَالَ: فَهُوَ ذَلِكَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: يَعْنِي أَنَّ التَّقْدِيمَ جَائِزٌ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ، وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَعِمَارَةِ الْأَرْضِينَ مِمَّا لَمْ يَسْمَعِ الرَّبِيعُ مِنَ الشَّافِعِيِّ.ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان سے پوچھا گیا آپ حج سے پہلے عمرہ کی ادائیگی کے متعلق کیا کہتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا تم کس طرح پڑھتے ہو کہ کیا قرض کی ادائیگی وصیت پر عمل کرنے سے پہلے ہے یا وصیت پر عمل قرض کی ادائیگی سے پہلے ہو گا؟ انہوں نے کہا: وصیت پر عمل قرض کی ادائیگی سے پہلے ہے۔ آپ نے فرمایا: ان دونوں میں سے تم کس سے ابتداء کرو گے؟ تو انہوں نے کہا: قرض سے (یعنی پہلے قرض دیں گے) آپ نے فرمایا: تو یہی ہے وہ۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: یعنی حج سے پہلے عمرہ کرنا جائز ہے۔