مسند الإمام الشافعي
كتاب الحج— حج کے مسائل کا بیان
بَابُ فَسْخِ الْحَجِّ بِالْعُمْرَةِ باب: حج کے احرام کو عمرہ میں بدل دینے (فسخ کرنے) کا بیان
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ: أَنَّهُمَا سَمِعَا طَاوُسًا، يَقُولُ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُسَمِّي حَجًّا وَلَا عُمْرَةً يَنْتَظِرُ الْقَضَاءَ، قَالَ: فَنَزَلَ عَلَيْهِ الْقَضَاءُ وَهُوَ يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ مَنْ كَانَ مِنْهُمْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَقَالَ: "لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمَا سُقْتُ الْهَدْيَ، وَلَكِنْ لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَسُقْتُ هَدْيِي وَلَيْسَ لِي مَحِلٌّ إِلَّا عَلَى مَحِلِّ هَدْيِي" . فَقَامَ إِلَيْهِ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْضِ لَنَا قَضَاءَ قَوْمٍ كَأَنَّمَا وُلِدُوا الْيَوْمَ، أَعُمْرَتُنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "بَلْ لِلْأَبَدِ دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" ، قَالَ: فَدَخَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنَ الْيَمَنِ فَسَأَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي: "بِمَ أَهْلَلْتَ؟" فَقَالَ أَحَدُهُمَا: لَبَّيْكَ إِهْلَالٌ كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ الْآخَرُ: لَبَّيْكَ حَجَّةٌ كَحَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.طاؤوس کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نکلے تو آپ حج اور عمرہ کا نام نہیں لے رہے تھے بلکہ آپ وحی کے منتظر تھے۔ طاؤوس نے کہا جب آپ صفا اور مروہ کے درمیان چکر لگا رہے تھے تو آپ پر وحی نازل ہوئی۔ آپ ﷺ نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ جس نے ان میں سے حج کے لیے احرام باندھا ہے اور اس کے پاس قربانی نہیں تو وہ اسے عمرہ بنا لے۔ پھر فرمایا: ”اگر مجھے پہلے معلوم ہو جاتا جو بعد میں ہوا تو میں قربانی نہ لاتا لیکن میں نے اپنے سر کے بال چپکا لیے ہیں اور قربانی ساتھ ہانک لایا ہوں، اب میرے لیے قربانی کیے بغیر حلال ہونا درست نہیں ہے۔“ پھر سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی طرف کھڑے ہوئے اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! آپ ہمارے بارے میں ایک نئی، آج کے دن جنم لینے والی قوم کی طرح فیصلہ کریں، یہ حج کو عمرہ کر ڈالنا ہمارے اسی سال کے لیے خاص ہے یا ہمیشہ کے لیے اس کی اجازت ہے؟“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہمیشہ کے لیے اجازت ہے، عمرہ قیامت تک کے لیے (ایامِ) حج میں داخل ہو گیا ہے۔“ اس نے کہا کہ علی رضی اللہ عنہ (مکہ میں) یمن سے داخل ہوئے تو نبی ﷺ نے پوچھا: ”آپ نے کس چیز کا احرام باندھا؟“ ابن طاووس اور ابراہیم بن میسرہ میں سے ایک نے کہا: ”میں نے احرام باندھ کر تلبیہ کہا نبی ﷺ کے احرام کی طرح“، اور دوسرے نے کہا: ”میں نے حج کا تلبیہ کہا نبی ﷺ کے حج کی طرح۔“