مسند الإمام الشافعي
كتاب الحج— حج کے مسائل کا بیان
بَابُ فَسْخِ الْحَجِّ بِالْعُمْرَةِ باب: حج کے احرام کو عمرہ میں بدل دینے (فسخ کرنے) کا بیان
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ ثُمَّ أَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ فَتَدَارَكَ النَّاسُ الْمَدِينَةَ لِيَخْرُجُوا مَعَهُ، فَخَرَجَ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَانْطَلَقْنَا مَعَهُ لَا نَعْرِفُ إِلَّا الْحَجَّ، وَلَهُ خَرَجْنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا يُنَزَّلُ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ، وَهُوَ يَعْرِفُ تَأْوِيلَهُ، وَإِنَّمَا يَفْعَلُ مَا أُمِرَ بِهِ فَقَدِمْنَا مَكَّةَ فَلَمَّا طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ قَالَ: "مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً فَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ وَلَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً" .جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نو برس تک مدینہ میں رہے اور آپ ﷺ نے حج نہیں کیا، پھر (دسویں سال) لوگوں میں حج کے لیے منادی کرائی۔ لوگ آپ ﷺ کے ساتھ نکلنے کے لیے مدینہ میں آنے لگے۔ رسول اللہ ﷺ (حج کے لیے) چلے اور ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ چلے، ہم صرف حج کا ارادہ رکھتے تھے اور اسی غرض سے نکلے تھے۔ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان تھے اور آپ ﷺ پر قرآن اترتا تھا اور آپ ﷺ اس کی حقیقت کو خوب جانتے تھے اور آپ ﷺ اسی طرح کرتے تھے جس طرح آپ کو حکم ہوتا تھا۔ جب ہم مکہ آپہنچے اور رسول اللہ ﷺ نے بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کر لی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے پاس قربانی نہیں وہ اس کو عمرہ بنا لے اور اگر وہ بات جو مجھے بعد میں معلوم ہوئی پہلے ہو جاتی تو میں قربانی نہ لاتا اور اس کو عمرہ بنا لیتا۔“