حدیث نمبر: 801
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ لَا نَرَى إِلَّا الْحَجَّ، فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِفَ أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلَمَّا كُنَّا بِمِنًى أُتِيتُ بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالَ: ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ. قَالَ يَحْيَى: فَحَدَّثْتُ بِهِ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ قَالَ: جَاءَتْكَ وَاللَّهِ، بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ.
حافظ محمد فہد

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے بیان فرماتی ہیں کہ ابھی ذی القعدہ کے پانچ دن باقی تھے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے ارادہ سے نکلے۔ جب ہم مقام سرف یا اس کے قریب تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، جس کے پاس قربانی نہیں وہ اپنے احرام (حج) کو عمرہ بنالے۔ اور جب ہم منی میں تھے میرے پاس گائے کا گوشت آیا میں نے کہا یہ کیسا گوشت ہے؟ کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے قربانی کی ہے۔ یحییٰ نے کہا کہ میں نے یہ حدیث قاسم بن محمد سے بیان کی تو انہوں نے کہا عمرہ! تیرے پاس اللہ کی قسم حدیث اپنی اصل شکل میں لائی ہیں۔

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الحج / حدیث: 801
تخریج حدیث اخرجه البخاري، الحج، باب وما يأكل من البدن وما يتصدق (1720) ومسلم، الحج، باب بيان وجوه الاحرام وأنه يجوز افراد الحج ... الخ (1211)۔