مسند الإمام الشافعي
كتاب الحج— حج کے مسائل کا بیان
بَابُ فَسْخِ الْحَجِّ بِالْعُمْرَةِ باب: حج کے احرام کو عمرہ میں بدل دینے (فسخ کرنے) کا بیان
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ ص: 188 ] حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ، فَنَظَرْتُ مَدَّ بَصَرِي مِنْ بَيْنِ رَاكِبٍ وَرَاجِلٍ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ وَمِنْ وَرَائِهِ كُلُّهُمْ يُرِيدُ أَنْ يَأْتَمَّ بِهِ، يَلْتَمِسُ أَنْ يَقُولَ كَمَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَنْوِي إِلَّا الْحَجَّ وَلَا نَعْرِفُ غَيْرَهُ، وَلَا نَعْرِفُ الْعُمْرَةَ فَلَمَّا طُفْنَا فَكُنَّا عِنْدَ الْمَرْوَةِ قَالَ: "أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ، وَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ" ، فَحَلَّ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ.جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ کے حج کے متعلق بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: ”ہم نبی ﷺ کے ساتھ نکلے، یہاں تک کہ جب ہم بیداء مقام پر تھے تو میں نے اپنے آگے، دائیں، بائیں اور پیچھے تاحدِ نگاہ سوار اور پیدل چلنے والے دیکھے۔ ہر ایک یہ چاہتا تھا کہ وہ اس (حج) کو مکمل کرے۔ اور ہر کوئی اس کوشش میں تھا کہ اسی طرح کرے جس طرح رسول اللہ ﷺ فرما رہے ہیں۔ ہماری حج کے علاوہ کوئی اور نیت نہ تھی اور نہ ہم اس کے علاوہ کچھ جانتے تھے، اور نہ ہم (حج کے مہینوں میں) عمرہ کے متعلق جانتے تھے۔ جب ہم طواف کے بعد مروہ کے پاس تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! جس کے پاس قربانی کا جانور نہیں ہے وہ احرام کھول دے اور اس احرام حج کو عمرہ بنالے (یعنی طواف سعی تو ہو چکی اور عمرہ کے افعال بھی پورے ہو گئے) اگر جو بات بعد میں میرے علم میں آئی ہے پہلے آجاتی تو میں قربانی نہ لاتا۔“ تو جن کے پاس قربانی نہ تھی انہوں نے احرام کھول دیا۔