حدیث نمبر: 767
أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ وَسَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: فَرَاجَعْتُ عَطَاءً، فَقُلْتُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَعَمُوا لَمْ يُوَقِّتْ ذَاتَ عِرْقٍ، وَلَمْ يَكُنْ أَهْلُ الْمَشْرِقِ قَالَ: وَلَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ عِرَاقٌ، وَلَكِنْ لِأَهْلِ الْمَشْرِقِ حِينَئِذٍ قَالَ: كَذَلِكَ سَمِعْنَا: أَنَّهُ وَقَّتَ ذَاتَ عِرْقٍ أَوِ الْعَقِيقَ لِأَهْلِ الْمَشْرِقِ قَالَ: وَلَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ عِرَاقٌ، وَلَكِنْ لِأَهْلِ الْمَشْرِقِ، وَلَمْ يَعْزُهُ إِلَى أَحَدٍ مِنَ الصَّحَابَةِ دُونَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنَّهُ يَأْبَى إِلَّا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَّتَهُ.
حافظ محمد فہد

ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے عطاء رحمہ اللہ سے مراجعت کی اور میں نے کہا لوگ سمجھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ذات عرق کو میقات مقرر نہیں کیا اور نہ ہی اس وقت مشرق والے تھے۔ عطاء نے کہا اس وقت عراق نہیں تھا اور لیکن مشرق والے تھے۔ عطاء نے کہا ہم نے اسی طرح سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذات عرق یا عقیق کو مشرق والوں کے لیے احرام باندھنے کی جگہ مقرر کیا۔ اور فرمایا: اس وقت عراق نہیں تھا اور لیکن مشرق والے تھے۔ انہوں نے اس بات کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کسی سے نہیں کی لیکن وہ اس بات کا انکار کرتے ہیں (کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میقات مقرر نہیں کیا) مگر یہ (کہتے ہیں) کہ اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میقات مقرر کیا۔

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الحج / حدیث: 767
تخریج حدیث اسناده ضعيف لإرساله اخرجه البيهقى 28/5 ۔ وفى المعرفة السنن والآثار له (2751)۔