مسند الإمام الشافعي
كتاب الحج— حج کے مسائل کا بیان
بَابُ الْمَوَاقِيتِ باب: میقاتوں (احرام باندھنے کی جگہوں) کا بیان
حدیث نمبر: 762
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ الْحُلَيْفَةَ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "هَذِهِ الْمَوَاقِيتُ لِأَهْلِهَا وَلِكُلِّ آتٍ عَلَيْهَا مِنْ غَيْرِ أَهْلِهَا مِمَّنْ أَرَادَ [ ص: 175 ] الْحَجَّ أَوِ الْعُمْرَةَ، وَمَنْ كَانَ أَهْلُهُ مِنْ دُونِ ذَلِكَ الْمِيقَاتِ فَلْيُهِلَّ مِنْ حَيْثُ يُنْشِئُ حَتَّى أَتَى ذَلِكَ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ" .حافظ محمد فہد
طاؤوس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ، شام والوں کے لیے جحفہ، نجد والوں کے لیے قرن منازل، اور یمن والوں کے لیے یلملم میقات مقرر کیے، پھر فرمایا: ”یہ وہاں کے رہنے والوں، اس جگہ پر آنے والوں جو وہاں کے رہائشی نہیں اور حج یا عمرہ کا ارادہ لے کر آئے ہیں ان کے لیے احرام باندھنے کی جگہ ہے۔ لیکن جن کا قیام میقات اور مکہ کے درمیان ہے تو وہ احرام اسی جگہ سے باندھیں جہاں سے انہوں نے سفر شروع کرنا ہے یہاں تک کہ مکہ والے مکہ سے ہی احرام باندھ لیں۔“