مسند الإمام الشافعي
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے مسائل
بَابُ الْعَامِلِ عَلَى الصَّدَقَةِ وَهَلَاكِ مَالِ خَالَطَتْهُ الصَّدَقَةُ باب: زکوٰۃ کے کارکن کا بیان اور اس مال کی ہلاکت جس میں زکوٰۃ مل جائے
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: اسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَقَالَ: "اتَّقِ يَا أَبَا الْوَلِيدِ لَا تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِبَعِيرٍ تَحْمِلُهُ عَلَى رَقَبَتِكَ لَهُ رُغَاءٌ أَوْ بَقَرَةٍ لَهَا خُوَارٌ أَوْ شَاةٍ تَيْعِرُ لَهَا ثُوَاجٌ" . فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنَّ ذَا لَكَذَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِي وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِلَّا مَنْ رَحِمَ اللَّهُ" ، قَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَعْمَلُ عَلَى اثْنَيْنِ أَبَدًا.طاؤوس رحمہ اللہ سے روایت ہے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو صدقہ وصول کرنے کے لیے عامل بنایا، اور فرمایا: ”اے ابوالولید! اللہ سے ڈرو! کہیں ایسا نہ ہو کہ تو قیامت کے دن اپنی گردن پر اونٹ لائے اور وہ بلبلا رہا ہو یا گائے لائے جو ڈکار رہی ہو یا بکری جو ممیا رہی ہو۔“ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ (واقعتاً) ایسے ہی ہے؟ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مگر جس پر اللہ نے رحم کیا۔“ عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا میں دو چیزوں پر بھی آئندہ عامل نہیں بنوں گا۔