حدیث نمبر: 740
أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمْتُ، ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْ لِقَوْمِي مَا أَسْلَمُوا عَلَيْهِ مِنْ أَمْوَالِهُمْ فَفَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَعْمَلَنِي عَلَيْهِمْ، ثُمَّ اسْتَعْمَلَنِي أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرُ. قَالَ: وَكَانَ سَعْدٌ مِنْ أَهْلِ السَّرَاةِ قَالَ: فَكَلَّمْتُ قَوْمِي فِي الْعَسَلِ، فَقُلْتُ لَهُ: زَكَاةٌ، فَإِنَّهُ لَا خَيْرَ فِي ثَمَرَةٍ لَا تُزَكَّى. فَقَالُوا: كَمْ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: الْعُشْرُ. فَأَخَذْتُ مِنْهُمُ الْعُشْرَ فَأَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخْبَرْتُهُ مَا كَانَ فَقَبَضَهُ عُمَرُ فَبَاعَهُ، ثُمَّ جَعَلَ ثَمَنَهُ فِي صَدَقَاتِ الْمُسْلِمِينَ.
حافظ محمد فہد

سعد بن ابی ذباب بیان فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اسلام لایا، پھر میں نے کہا: یا رسول اللہ! میری قوم کے مسلمان لانے کی وجہ سے ان کے مالوں سے کسی کو زکوۃ لینے کے لیے مقرر فرما دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کیا اور مجھے ان پر عامل مقرر فرما دیا۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی مجھے عامل بنایا، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے بھی۔ راوی کہتے ہیں کہ سعد معززین میں سے تھے۔ سعد کہتے ہیں کہ میں نے اپنی قوم سے شہد کے متعلق بات کی اور ان سے کہا: اس میں زکوۃ ہے کیونکہ وہ مال جس سے زکوۃ نہ دی جائے اس میں بہتری نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: کتنی ہے؟ سعد کہتے ہیں میں نے کہا: دسواں حصہ ہے۔ سعد کہتے ہیں میں نے ان سے دسواں حصہ لے کر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انہیں آگاہ کیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے اسے قبول کیا، اسے بیچ کر اس کی قیمت کو مسلمانوں کے صدقات میں جمع کر دیا۔

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الزكاة / حدیث: 740
تخریج حدیث ضعیف : أخرجه البيهقي : 127/4 ۔ واحمد: 4 79 ۔ وابن ابي شيبة (10053) والطبراني في الكبير : (43/6 ، 5458)۔