مسند الإمام الشافعي
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے مسائل
بَابُ زَكَاةِ الثِّمَارِ وَالزُّرُوعِ وَالزَّيْتِ وَالْعَسَلِ باب: پھلوں، فصلوں، زیتون اور شہد کی زکوٰۃ کا بیان
أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ: صَدَقَةُ الثِّمَارِ وَالزُّرُوعِ مَا كَانَ نَخْلًا أَوْ كَرْمًا أَوْ زَرْعًا أَوْ شَعِيرًا أَوْ سُلْتًا فَمَا كَانَ بَعْلًا أَوْ سَقْيًا بِنَهْرٍ أَوْ يُسْقَى بِالْعَيْنِ أَوْ عَثْرِيًّا بِالْمَطَرِ فَفِيهِ الْعُشُورُ وَمِنْ كُلِّ [ ص: 164 ] عَشَرَةٍ وَاحِدٌ، وَمَا كَانَ مِنْهُ يُسْقَى بِالنَّضْحِ فَفِيهِ نِصْفُ الْعُشْرِ فِي كُلِّ عِشْرِينَ وَاحِدٌ، وَمَا كَانَ مِنْهُ يُسْقَى بِالنَّضْحِ فَفِيهِ نِصْفُ الْعُشْرِ فِي كُلِّ عِشْرِينَ وَاحِدٌ.نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: پھلوں اور کھیتیوں کا صدقہ (زکوۃ) جو کھجوروں یا انگوروں یا کھیتیوں یا جو یا سلت (حجاز میں پیدا ہونے والا جَو جو گیہوں کے مشابہ ہوتا ہے) جو زمین سے تری حاصل کرنے والا ہو، یا نہر سے سیراب کیا گیا ہو، یا چشمہ سے پانی پلایا گیا ہو یا بارش سے سیراب ہوا ہو۔ اس میں عشر (دسواں حصہ) ہے۔ ہر دس سے ایک حصہ ہوگا، اور جس کو پانی کھینچ کر ڈولوں یا جانوروں سے لا کر سیراب کیا گیا اس میں نصف العشر (بیسواں حصہ) ہے ہر بیس میں سے ایک حصہ ہوگا۔ جو کھیت ڈولوں سے پانی نکال کر کھینچا جائے یا جانور پر پانی لا کر اس میں سے بیسواں حصہ (پیداوار کا) لیا جائے گا۔