مسند الإمام الشافعي
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے مسائل
بَابُ زَكَاةِ الرِّكَازِ وَالْكَنْزِ باب: دفینے (رکاز) اور خزانے کی زکوٰۃ کا بیان
حدیث نمبر: 731
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: إِنِّي وَجَدْتُ أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةِ دِرْهَمٍ فِي خَرِبَةٍ بِالسَّوَادِ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَمَا لَأَقْضِيَنَّ فِيهَا قَضَاءً بَيِّنًا، إِنْ كُنْتَ وَجَدْتَهَا فِي قَرْيَةٍ يُؤَدِّي خَرَاجَهَا قَرْيَةٌ أُخْرَى فَهِيَ لِأَهْلِ تِلْكَ الْقَرْيَةِ، وَإِنْ كُنْتَ وَجَدْتَهَا فِي قَرْيَةٍ لَيْسَ يُؤَدِّي خَرَاجَهَا قَرْيَةٌ أُخْرَى فَلَكَ أَرْبَعَةُ أَخْمَاسٍ، وَلَنَا الْخُمُسُ، ثُمَّ الْخُمُسُ لَكَ.حافظ محمد فہد
شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے کہا: مجھے سواد مقام پر غیر آباد جگہ سے پندرہ سو درہم ملے ہیں۔ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اس میں بڑا واضح فیصلہ کروں گا۔ اگر تو نے اسے ایک ایسی غیر آباد جگہ سے پایا ہے جو دوسری بستی سے ملی ہوئی ہے تو یہ پیسے ان بستی والوں کے ہیں اور اگر تو نے ایک ایسی بستی سے پایا کہ جس کی غیر آباد جگہ دوسری سے نہیں ملی ہوئی تو تیرے لیے چار خمس اور ہمارے لیے ایک خمس ہے، پھر ایک اور خمس تیرے لیے ہے۔