مسند الإمام الشافعي
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے مسائل
بَابُ مَا لَيْسَ فِيهِ زَكَاةٌ مِنَ الْعُرُوضِ وَالْحُلِيِّ وَالْوَرِقِ باب: وہ سامان، زیورات اور چاندی جن میں زکوٰۃ نہیں ہے (نصاب سے کم ہونے کی صورت میں)
حدیث نمبر: 723
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا يَسْأَلُ جَابِرَ [ ص: 157 ] بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الْحُلِيِّ أَفِيهِ الزَّكَاةُ؟ فَقَالَ جَابِرٌ: لَا، فَقَالَ: وَإِنْ كَانَ يَبْلُغُ أَلْفَ دِينَارٍ، فَقَالَ جَابِرٌ: كَثِيرٌ.حافظ محمد فہد
عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں کہ میں نے سنا ایک آدمی جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھ رہا تھا کیا زیورات پر زکوۃ ہے؟ آپ نے فرمایا : نہیں۔ اس آدمی نے کہا اگر (زیورات) ایک ہزار دینار تک پہنچ جائیں تو؟ جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس سے بھی زیادہ ہوں تو بھی نہیں۔