مسند الإمام الشافعي
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے مسائل
بَابُ مَا لَيْسَ فِيهِ زَكَاةٌ مِنَ الْعُرُوضِ وَالْحُلِيِّ وَالْوَرِقِ باب: وہ سامان، زیورات اور چاندی جن میں زکوٰۃ نہیں ہے (نصاب سے کم ہونے کی صورت میں)
حدیث نمبر: 719
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ قَالَ: لَيْسَ فِي الْعَرْضِ زَكَاةٌ إِلَّا أَنْ يُرَادَ بِهِ التِّجَارَةُ.حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا : مال میں اس وقت تک زکوۃ نہیں جب تک تجارت کا ارادہ نہ ہو۔