مسند الإمام الشافعي
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے مسائل
بَابُ زَكَاةِ الْعُرُوضِ باب: مالِ تجارت (سامانِ تجارت) کی زکوٰۃ کا بیان
حدیث نمبر: 712
أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زُرَيْقِ بْنِ حَكِيمٍ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَتَبَ إِلَيْهِ: أَنِ انْظُرْ مَنْ مَرَّ بِكَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَخُذْ مِمَّا ظَهَرَ مِنْ أَمْوَالِهِمْ مِنَ التِّجَارَاتِ، مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِينَارًا دِينَارًا، فَمَا نَقَصَ فَبِحِسَابٍ حَتَّى تَبْلُغَ عِشْرِينَ دِينَارًا فَإِنْ نَقَصَتْ ثُلُثَ دِينَارٍ فَدَعْهَا وَلَا تَأْخُذْ مِنْهَا شَيْئًا. أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الزَّكَاةِ.حافظ محمد فہد
زریق بن حکیم سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ان کی طرف (خط) لکھا کہ جو بھی مسلمانوں کا تجارتی سامان آپ کے پاس سے گزرے تو ان کے تجارتی مالوں سے زکوٰۃ لو۔ ہر چالیس دینار پر ایک دینار ہے۔ اس سے کم ہونے کی صورت میں اسی حساب سے کم زکوٰۃ لینا، یہاں تک کہ 20 دینار تک۔ اگر ثلث دینار کم ہو جائے تو اس کو چھوڑ دو اور اس مالیت سے زکوٰۃ نہ لو۔