مسند الإمام الشافعي
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے مسائل
بَابُ صَدَقَةِ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ وَالرِّقَّةِ باب: اونٹ، بکریوں اور چاندی کی زکوٰۃ کا بیان
حدیث نمبر: 700
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: مُرَّ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِغَنَمٍ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَرَأَى فِيهَا شَاةً حَافِلًا ذَاتَ ضَرْعٍ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَا هَذِهِ الشَّاةُ؟ فَقَالُوا: شَاةٌ مِنَ الصَّدَقَةِ. فَقَالَ عُمَرُ: مَا أَعْطَى هَذِهِ أَهْلُهَا وَهُمْ طَائِعُونَ، لَا تَفْتِنُوا النَّاسَ، لَا تَأْخُذُوا حَزَرَاتِ الْمُسْلِمِينَ نَكِّبُوا عَنِ الطَّعَامِ. أَخْرَجَ السَّبَعَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الزَّكَاةِ.حافظ محمد فہد
نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس سے زکوٰۃ کی بکریاں گزریں تو انہوں نے ان میں سے ایک بکری دیکھی جس کے تھن دودھ سے بھرے ہوئے تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”یہ بکری کیسی ہے؟“ تو لوگوں نے کہا: ”صدقہ کی بکریوں میں سے ہے۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس کے گھر والوں نے اسے خوشی سے نہیں دیا ہوگا۔ تم لوگوں کو آزمائش میں نہ ڈالو، مسلمانوں کے بہترین مال نہ لو، اور ان کے کھانے (دودھ دینے والے جانوروں) سے باز رہو۔“