مسند الإمام الشافعي
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے مسائل
بَابُ صَدَقَةِ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ وَالرِّقَّةِ باب: اونٹ، بکریوں اور چاندی کی زکوٰۃ کا بیان
حدیث نمبر: 695
أَخْبَرَنِي عَدَدٌ ثِقَاتٌ، كُلُّهُمْ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ [ ص: 143 ] عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ مَعْنَى هَذَا لَا يُخَالِفُهُ، إِلَّا أَنِّي أَحْفَظُ فِيهِ: وَلَا يُعْطِي شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا لَا أَحْفَظُ إِنِ اسْتَيْسَرَتَا عَلَيْهِ قَالَ: وَأَحْسَبُ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ قَالَ: دَفَعَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ كِتَابَ الصَّدَقَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ هَذَا الْمَعْنَى كَمَا وَصَفْتُ.حافظ محمد فہد
انس رضی اللہ عنہ سے اسی (سابقہ حدیث) کے ہم معنی بیان فرماتے ہے، مگر میں نے اس میں یہ یاد کیا ہے کہ: ”زکوٰۃ دینے والا دو بکریاں یا 20 درہم نہیں دے گا، مجھے یہ یاد نہیں کہ اگر ان کے دینے میں اسے آسانی ہو۔“ اور میرا خیال ہے کہ حماد کی سند سے مروی حدیث جو انس رضی اللہ عنہ سے ہے اس میں انہوں نے کہا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے منقول صدقہ کی کتاب مجھے دی، پھر یہی معنی ذکر کیے جس طرح کہ میں نے بیان کیا۔