مسند الإمام الشافعي
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے مسائل
بَابُ أَخْذِ الزَّكَاةِ وَصَرْفِهَا باب: زکوٰۃ لینے اور اسے خرچ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 677
أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ اللَّيْثِيِّ: أَنَّهُ سَأَلَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الزَّكَاةِ. فَقَالَ: أَعْطِهَا أَنْتَ، فَقُلْتُ: أَلَمْ يَكُنِ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ: ادْفَعْهَا إِلَى السُّلْطَانِ، قَالَ: بَلَى، وَلَكِنِّي لَا أَرَى أَنْ يَدْفَعَهَا إِلَى السُّلْطَانِ. أَخْرَجَ الْأَرْبَعَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ أَدَبِ الْقَاضِي، وَالْخَامِسَ مِنْ كِتَابِ الزَّكَاةِ.حافظ محمد فہد
اسامہ بن زید اللیثی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اس نے سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ سے زکوٰۃ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: تو خود دے دے۔ اسامہ کہتے ہیں میں نے کہا، کیا ابن عمر رضی اللہ عنہما یہ نہیں کہتے تھے کہ اسے بادشاہ کے ہاں پہنچا دو، انہوں نے کہا، ہاں۔ لیکن میرے خیال میں اسے بادشاہ تک پہنچانا ضروری نہیں ہے۔