مسند الإمام الشافعي
كتاب الصيام— روزوں کے مسائل
بَابُ مَنْ أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ مِنْ جِمَاعٍ وَكَفَّارَتِهِ وَإِفْطَارِ مَنْ خَافَتْ عَلَى وَلَدٍ باب: رمضان میں جماع کی وجہ سے روزہ توڑنے، اس کے کفارے اور حاملہ/مرضعہ کے روزہ چھوڑنے کا بیان
حدیث نمبر: 653
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ الْحَامِلِ إِذَا خَافَتْ عَلَى وَلَدِهَا، قَالَ: تُفْطِرُ وَتُطْعِمُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا مُدًّا مِنْ حِنْطَةٍ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الصِّيَامِ، وَالثَّالِثَ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.حافظ محمد فہد
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حاملہ عورت کے متعلق پوچھا گیا کہ جب اسے بچے کا خدشہ ہو تو کیا کرے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: روزہ نہ رکھے اور ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو گندم کا ایک مد کھلا دے۔