مسند الإمام الشافعي
كتاب الصيام— روزوں کے مسائل
بَابُ الْإِفْطَارِ فِي صِيَامِ التَّطَوُّعِ باب: نفلی روزہ توڑنے (افطار کرنے) کا بیان
حدیث نمبر: 637
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ وَعَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ: أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يُفْطِرَ الْإِنْسَانُ فِي صِيَامِ التَّطَوُّعِ، وَيَضْرِبُ لِذَلِكَ أَمْثَالًا: رَجُلٌ طَافَ سَبْعًا وَلَمْ يُوَفِّهِ فَلَهُ مَا احْتَسَبَ، أَوْ صَلَّى رَكْعَةً وَلَمْ يُصَلِّ أُخْرَى فَلَهُ أَجْرُ مَا احْتَسَبَ.حافظ محمد فہد
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہا کچھ حرج نہیں سمجھتے تھے کہ کوئی انسان نفلی روزہ افطار کر دے اور اس کے لیے مثالیں بیان کرتے تھے کہ : ”ایک آدمی نے سات چکر کاٹے اور اسے پورا نہیں کیا تو اس کے لیے اتنا ہی ثواب ہے جتنی اس نے نیت کی، یا کسی نے ایک رکعت پڑھی دوسری نہیں پڑھی، تو اس کے لیے اتنا ہی اجر ہے جتنی اس نے ثواب کی نیت کی۔“