مسند الإمام الشافعي
كتاب الصيام— روزوں کے مسائل
بَابُ صِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ باب: یومِ عاشورہ کے روزے کا بیان
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ أَخْرَجَ مِنْ كُمِّهِ قَبْضَةً مِنْ شَعَرٍ يَقُولُ: أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ؟ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذِهِ، وَيَقُولُ: إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَهَا نِسَاؤُهُمْ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِثْلِ هَذَا الْيَوْمِ يَقُولُ: "إِنِّي صَائِمٌ فَمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فَلْيَصُمْ" .حمید بن عبد الرحمن روایت بیان کرتے ہیں کہ میں نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے عاشوراء کے دن سنا جبکہ آپ منبر رسول ﷺ پر تشریف فرما تھے۔ اور آپ نے اپنی آستین سے بالوں کی ایک مٹھی نکالی اور آپ کہہ رہے تھے اے مدینہ والو ! تمہارے علماء کہاں ہیں ؟ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ وہ اس قسم کے کاموں سے منع کرتے اور فرماتے، ”بے شک بنی اسرائیل اس وقت ہلاک ہو گئے جب ان کی عورتوں نے یہ کام شروع کیے۔“ پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے اسی دن کے متعلق سنا آپ نے فرمایا: ”میں آج کے دن روزہ سے ہوں جو تم میں سے چاہے روزہ رکھے۔“