مسند الإمام الشافعي
كتاب الصيام— روزوں کے مسائل
بَابُ الْإِفْطَارِ فِي السَّفَرِ باب: دورانِ سفر روزہ چھوڑنے (افطار کرنے) کا بیان
حدیث نمبر: 622
قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَفِي حَدِيثِ الثِّقَةِ، عَنِ الدَّرَاوَرْدِيِّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ إِلَى مَكَّةَ فَصَامَ وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا، وَقَالَ: "تَقَوَّوْا لِعَدُوِّكُمْ" ، فَقِيلَ: إِنَّ النَّاسَ أَبَوْا أَنْ يُفْطِرُوا حِينَ صُمْتَ فَدَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ فَشَرِبَ، ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الْعِيدَيْنِ وَإِلَى آخِرِ السَّادِسِ مِنْ كِتَابِ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ.حافظ محمد فہد
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ والے سال رمضان میں مکہ کی طرف نکلے، اور لوگوں کو روزہ افطار کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”اپنے دشمن کے مقابلہ میں قوت بناؤ“۔ آپ سے کہا گیا کہ بعض لوگوں نے روزہ افطار کرنے سے انکار کر دیا جب آپ نے روزہ رکھا، تو آپ نے پانی کا پیالہ منگوایا اور اس سے پانی پیا۔ پھر آگے حدیث لمبی بیان کی۔