مسند الإمام الشافعي
كتاب الصيام— روزوں کے مسائل
بَابُ الْإِفْطَارِ فِي السَّفَرِ باب: دورانِ سفر روزہ چھوڑنے (افطار کرنے) کا بیان
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ النَّاسَ فِي سَفَرِهِ عَامَ الْفَتْحِ بِالْفِطْرِ، وَقَالَ: "تَقَوَّوْا لِعَدُوِّكُمْ" ، وَصَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: أَبُو بَكْرٍ، يَعْنِي: ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ الَّذِي حَدَّثَنِي: لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَرْجِ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ مِنَ الْعَطَشِ أَوْ مِنَ الْحَرِّ، فَقِيلَ: [ ص: 106 ] يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ طَائِفَةً مِنَ النَّاسِ صَامُوا حِينَ صُمْتَ، فَلَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْكَدِيدِ دَعَا بِقَدَحٍ فَشَرِبَ فَأَفْطَرَ النَّاسُ.ابوبکر بن عبدالرحمن رسول اللہ ﷺ کے بعض صحابہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فتح مکہ کے سال سفر میں لوگوں کو روزہ افطار کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”اپنے دشمن کے مقابلہ میں قوت پیدا کرو۔“ اور نبی ﷺ نے خود روزہ رکھا، ابوبکر بن عبدالرحمن کہتے ہیں جس صحابی نے مجھے بیان کیا اس نے کہا میں نے نبی ﷺ کو ”عرج“ مقام پر دیکھا کہ آپ پیاس یا گرمی کی شدت کی وجہ سے سر پر پانی ڈال رہے تھے۔ آپ سے عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! لوگوں میں سے ایک گروہ نے اس وقت روزہ رکھا جب آپ نے روزہ رکھا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرید مقام پر پہنچے تو آپ نے پیالہ منگوایا اور اس سے پانی پیا، تو لوگوں نے بھی روزہ افطار کر دیا۔