مسند الإمام الشافعي
كتاب الصيام— روزوں کے مسائل
بَابُ الْإِفْطَارِ فِي السَّفَرِ باب: دورانِ سفر روزہ چھوڑنے (افطار کرنے) کا بیان
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ فِي سَفَرِهِ إِلَى مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَامُوا حِينَ صُمْتَ فَدَعَا بِإِنَاءٍ وَفِيهِ مَاءٌ فَوَضَعَهُ عَلَى يَدِهِ وَأَمَرَ مَنْ بَيْنَ يَدَيْهِ أَنْ يَحْسِبُوا، فَلَمَّا حَبَسُوا وَلَحِقَ مَنْ وَرَاءَهُ رَفَعَ الْإِنَاءَ إِلَى فِيهِ فَشَرِبَ. فِي حَدِيثِهِمَا أَوْ حَدِيثِ غَيْرِهِمَا وَذَلِكَ بَعْدَ الْعَصْرِ.جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ فتح مکہ کے سال رمضان کے مہینے میں مکہ کی طرف نکلے تو روزہ رکھا، اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ روزہ نہ رکھیں، آپ ﷺ سے کہا گیا، جب آپ نے روزہ رکھا تو لوگوں نے بھی روزہ رکھا، آپ ﷺ نے ایک پانی کا برتن منگوایا، اس کو اپنے ہاتھ پر رکھا اور سامنے والوں کو روزہ افطار کرنے کا کہا، جب انہوں نے روزہ افطار کر لیا اور ان کے ساتھ والے بھی افطار کر چکے تو آپ ﷺ نے برتن اٹھا کر اپنے منہ کو لگایا اور پانی پیا۔ ان دونوں کی حدیث یا ان کے علاوہ کسی اور کی حدیث میں ہے کہ یہ عصر کے بعد کی بات ہے۔