مسند الإمام الشافعي
كتاب الجنائز— جنازے کے مسائل
بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْقَبْرِ باب: قبر پر نمازِ جنازہ پڑھنے کا بیان
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ: أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّ مِسْكِينَةً مَرِضَتْ، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَرَضِهَا. قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُ الْمَرْضَى وَيَسْأَلُ عَنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا مَاتَتْ فَآذِنُونِي بِهَا" ، فَخَرَجَ بِجِنَازَتِهَا لَيْلًا فَكَرِهُوا أَنْ يُوقِظُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْبِرَ بِالَّذِي كَانَ مِنْ شَأْنِهَا، فَقَالَ: "أَلَمْ آمُرُكُمْ أَنْ تُؤْذِنُونِي بِهَا؟" فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ لَيْلًا، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى صَفَّ بِالنَّاسِ عَلَى قَبْرِهَا، وَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ، وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ الْجَنَائِزِ.ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مسکین عورت بیمار پڑ گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی بیماری کے متعلق بتایا گیا۔ امامہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ آپ بیماروں کی عیادت کرتے اور ان کے متعلق پوچھا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب یہ عورت فوت ہو جائے تو مجھے بھی اس کی اطلاع کرنا۔ لوگ اس کے جنازے کو رات کے وقت لے کر نکلے تو انہوں نے ناپسند جانا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیدار کریں۔ صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے متعلق بتایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں نے تمہیں کہا نہیں تھا کہ مجھے بھی بتانا؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے رات کے وقت آپ کو بیدار کرنا مناسب نہ سمجھا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور اس کی قبر پر لوگوں نے صفیں بنائیں، آپ نے نماز جنازہ پڑھائی اور چار تکبیرات کہیں۔