مسند الإمام الشافعي
كتاب الجنائز— جنازے کے مسائل
بَابُ الْبُكَاءِ قَبْلَ الْمَوْتِ وَبَعْدَهُ وَالنَّهْيِ عَنْهُ إِذَا مَاتَ وَأَنَّ الْكَافِرَ لِيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ باب: موت سے پہلے اور بعد میں رونے، مرنے کے بعد (بین کرنے) کی ممانعت، اور کافر کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب ہونے کا بیان
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، عَنْ عَتِيكِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَتِيكٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَتِيكٍ: [ ص: 77 ] أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ يَعُودُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ ثَابِتٍ فَوَجَدَهُ قَدْ غُلِبَ، فَصَاحَ بِهِ فَلَمْ يُجِبْهُ فَاسْتَرْجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: غُلِبْنَا عَلَيْكَ يَا أَبَا الرَّبِيعِ، فَصَاحَ النِّسْوَةُ وَبَكَيْنَ، فَجَعَلَ ابْنُ عَتِيكٍ يُسْكِتُهُنَّ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "دَعْهُنَّ فَإِذَا وَجَبَ فَلَا تَبْكِيَنَّ بَاكِيَةٌ" ، قَالَ: وَمَا الْوُجُوبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "إِذَا مَاتَ" .عبد اللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عبد اللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے تشریف لائے تو انہیں بے ہوش پایا، آپ ﷺ نے انہیں زور سے آواز دی لیکن انہوں نے جواب نہ دیا تو رسول اللہ ﷺ نے ﴿إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ﴾ پڑھا اور فرمایا: ”اے ابو ربیع! تیرے معاملے میں ہم مغلوب ہیں (اللہ کا فیصلہ غالب آچکا ہے)“۔ عورتوں نے چیخ و پکار سے رونا شروع کر دیا۔ عبد اللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ ان کو خاموش کروانے لگے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”ان کو چھوڑ دے، جب واجب ہو جائے تو پھر کوئی بھی رونے والی نہ روئے“۔ ابن عتیک رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا واجب ہوا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب وہ فوت ہو جائیں“۔