مسند الإمام الشافعي
كتاب العيدين والأضاحي والاستسقاء— عیدین ، قربانی اور استسقا کے مسائل
بَابُ لَا تَسُبُّوا الرِّيَاحَ وَاسْأَلُوا اللَّهَ مِنْ خَيْرِهَا وَعُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا باب: ہواؤں کو برا بھلا نہ کہنے، اللہ سے ان کی خیر مانگنے اور شر سے پناہ طلب کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخَذَتِ النَّاسَ رِيحٌ بِطَرِيقِ مَكَّةَ وَعُمَرُ حَاجٌّ، فَاشْتَدَّتْ، فَقَالَ عُمَرُ لِمَنْ حَوْلَهُ: مَا بَلَغَكُمْ فِي الرِّيحِ؟ فَلَمْ يَرْجِعُوا إِلَيْهِ شَيْئًا، فَبَلَغَنِي الَّذِي سَأَلَ عُمَرُ عَنْهُ مِنْ أَمْرِ الرِّيحِ، فَاسْتَحْثَثْتُ رَاحِلَتِي حَتَّى أَدْرَكْتُ عُمَرَ، وَكُنْتُ فِي مُؤَخَّرِ النَّاسِ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أُخْبِرْتُ أَنَّكَ سَأَلْتَ عَنِ الرِّيحِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "الرِّيحُ [ ص: 69 ] مِنْ رَوْحِ اللَّهِ تَأْتِي بِالرَّحْمَةِ وَبِالْعَذَابِ، فَلَا تَسُبُّوهَا وَاسْأَلُوا اللَّهَ مِنْ خَيْرِهَا، وَعُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا" .ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بیان کرتے ہیں کہ مکہ کے راستے میں لوگوں کو ہوا نے آ لیا اور عمر رضی اللہ عنہ حج کرنے جا رہے تھے۔ ہوا تیز ہوگئی، عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ارد گرد والوں سے پوچھا: کیا تمہیں ہوا کے بارے میں (نبی ﷺ سے) کچھ حکم پہنچا ہے؟ لوگوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، مجھے اس کی اطلاع ملی جو ہوا کے بارے میں عمر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا۔ میں نے اپنی اونٹنی دوڑائی یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آگیا، حالانکہ میں لوگوں کے آخر میں تھا۔ میں نے کہا: اے امیر المومنین! مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ نے ہوا کے بارے میں دریافت کیا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا آپ فرما رہے تھے: ”ہوا اللہ کے امر سے ہے جو رحمت اور عذاب دونوں لاتی ہے، اس کو برا بھلا نہ کہو، اللہ سے اس میں موجود خیر کا سوال کرو، اور اللہ سے اس میں موجود شر سے پناہ مانگو۔“