مسند الإمام الشافعي
كتاب الطهارة— طہارت کے مسائل
بَابُ إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ وَالتَّخْلِيلِ بَيْنَ الْأَصَابِعِ وَالْمُبَالَغَةِ فِي الِاسْتِنْشَاقِ باب: کامل وضو کرنے، انگلیوں کے درمیان خلال کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے میں مبالغہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 52
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ بَشِيرِ بْنِ مُحْرِزٍ، عَنْ سَالِمٍ سَبَلَانَ مَوْلَى النَّصْرِيِّينَ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ، وَكَانَتْ تَخْرُجُ بِأَبِي حَتَّى يُصَلِّيَ بِهَا. قَالَ: فَأُتِيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ بِوَضُوءٍ. فَقَالَتْ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَسْبِغِ الْوُضُوءَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .حافظ محمد فہد
سالم رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ ہم اُم المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ مکہ کے لیے نکلے، اور وہ میرے باپ کے ساتھ نکلتی تھیں اور ان کے ساتھ نماز بھی پڑھتیں، سالم کہتے ہیں عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے لیے وضو کا پانی لایا گیا تو اُم المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے عبدالرحمن وضو اچھی طرح پورا کرو۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے: ”قیامت کے دن ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔“