مسند الإمام الشافعي
كتاب العيدين والأضاحي والاستسقاء— عیدین ، قربانی اور استسقا کے مسائل
بَابُ التَّكْبِيرِ فِي صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ وَالِاسْتِسْقَاءِ وَالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ باب: عیدین اور استسقاء کی نماز میں تکبیرات اور خطبہ سے پہلے نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 490
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ رَبَاحٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ يَوْمَ الْعِيدِ، ثُمَّ خَطَبَ فَرَأَى أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعِ النِّسَاءَ فَأَتَاهُنَّ فَذَكَّرَهُنَّ وَوَعَظَهُنَّ، وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، وَمَعَهُ بِلَالٌ قَائِلٌ بِثَوْبِهِ هَكَذَا، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْخُرْصَ وَالشَّيْءَ.حافظ محمد فہد
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے عید کے دن نماز خطبہ سے پہلے پڑھی۔ پھر لوگوں کو خطبہ دیا، آپ ﷺ نے خیال کیا کہ شاید عورتوں نے آواز نہیں سنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے ان کو وعظ و نصیحت فرمائی اور انہیں صدقہ کا حکم دیا، اور آپ کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ اپنے کپڑے سے اس طرح کہہ رہے تھے (یعنی اس میں ڈالو) تو عورتوں نے اپنی بالیاں اور دیگر اشیاء (انگوٹھیاں وغیرہ) صدقہ میں دیں۔