مسند الإمام الشافعي
كتاب العيدين والأضاحي والاستسقاء— عیدین ، قربانی اور استسقا کے مسائل
بَابُ تَرْكِ الصَّلَاةِ قَبْلَ صَلَاةِ الْعِيدِ وَبَعْدَهَا فِي الْمُصَلَّىٰ باب: عید گاہ میں نمازِ عید سے پہلے یا بعد میں (نفل) نماز نہ پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 481
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ غَدَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْعِيدِ إِلَى الْمُصَلَّى ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَ الْعِيدِ وَلَا بَعْدَهُ.حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ صبح کے وقت عید کے دن نبی ﷺ کے ساتھ عید گاہ کی طرف گئے، پھر اپنے گھر واپس آئے اور نہ بعد میں نماز پڑھی اور نہ ہی پہلے نماز ادا کی۔