مسند الإمام الشافعي
كتاب الجمعة— جمعہ کے مسائل
بَابُ تَرْكِ الْجُمُعَةِ وَلِلْعُذْرِ باب: جمعہ چھوڑنے کی ممانعت اور جائز عذر کا بیان
حدیث نمبر: 459
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ: دُعِيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لِسَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، وَهُوَ يَمُوتُ وَابْنُ عُمَرَ يَسْتَحِمُّ لِلْجُمُعَةِ فَأَتَاهُ وَتَرَكَ الْجُمُعَةَ.حافظ محمد فہد
اسماعیل بن عبد الرحمن بن ابی ذئب کہتے ہیں: عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے فوت ہونے پر (جنازہ کے لیے) بلایا گیا۔ جبکہ ابن عمر رضی اللہ عنہما جمعہ کے لیے غسل فرما رہے تھے۔ آپ جنازہ کے لیے گئے اور جمعہ چھوڑ دیا۔