مسند الإمام الشافعي
كتاب الجمعة— جمعہ کے مسائل
بَابُ الصَّلَاةِ وَالْحَدِيثِ حَتَّىٰ يَسْكُتَ الْمُؤَذِّنُونَ وَيَقُومَ الْخَطِيبُ باب: اذان کے دوران نماز اور گفتگو، یہاں تک کہ مؤذن خاموش ہو جائے اور خطیب کھڑا ہو، اس کا بیان
حدیث نمبر: 425
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُمْ كَانُوا فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يُصَلُّونَ حَتَّى يَخْرُجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ وَجَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ جَلَسُوا يَتَحَدَّثُونَ حَتَّى إِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُونَ وَقَامَ عُمَرُ سَكَتُوا فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ.حافظ محمد فہد
ثعلبہ بن ابی مالک رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جمعہ کے دن نوافل پڑھتے، یہاں تک کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تشریف لاتے۔ جب امام آ کر منبر پر بیٹھ جاتا تو مؤذن اذان دیتا وہ بیٹھے باتیں کر رہے ہوتے یہاں تک کہ مؤذن خاموش ہو جاتا اور عمر رضی اللہ عنہ خطبہ کے لیے کھڑے ہو جاتے تو پھر ان میں سے کوئی بھی بات چیت نہ کرتا۔