مسند الإمام الشافعي
كتاب الطهارة— طہارت کے مسائل
بَابُ النَّهْيِ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ تَعَالَى عِنْدَ قَضَاءِ الْحَاجَةِ باب: قضائے حاجت کے وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 40
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ إِلَى بِئْرِ جَمَلٍ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ رَجُلٌ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ، حَتَّى مَسَحَ يَدَهُ بِجِدَارٍ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ وَقَوْلَ الْأَصَمِّ وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ الْوُضُوءِ وَالرَّابِعَ مِنْ كِتَابِ الدِّيَاتِ وَالْقِصَاصِ، وَهُوَ آخِرُ حَدِيثٍ فِيهِ.حافظ محمد فہد
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ بئرِ جمل کی طرف قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے۔ جب آپ واپس آئے تو ایک آدمی نے آپ کو سلام کیا لیکن آپ نے جواب نہ دیا، یہاں تک کہ آپ نے دیوار سے اپنا ہاتھ صاف کیا پھر اس کو سلام کا جواب دیا۔