مسند الإمام الشافعي
كتاب الصلاة— نماز کے مسائل
بَابُ الْقَصْرِ وَالْإِتْمَامِ فِي السَّفَرِ وَالِاقْتِصَارِ عَلَى الْفَرِيضَةِ باب: سفر میں قصر کرنے، پوری نماز پڑھنے اور صرف فرض پر اکتفا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 357
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: أَوَّلُ مَا فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، فَزِيدَ فِي صَلَاةِ الْحَضَرِ، وَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ، قُلْتُ: فَمَا شَأْنُ عَائِشَةَ كَانَتْ تُتِمُّ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: إِنَّهَا تَأَوَّلَتْ مَا تَأَوَّلَ عُثْمَانُ.حافظ محمد فہد
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: پہلے نماز دو دو رکعتیں فرض کی گئی، حالتِ اقامت کی نمازوں میں زیادتی کر دی گئی اور سفر کی نماز اپنی حالت پر باقی رکھی گئی۔ زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے پوچھا تو پھر خود عائشہ رضی اللہ عنہا سفر میں کیوں پوری پڑھتی تھیں؟ عروہ نے جواب دیا کہ جو تاویل عثمان رضی اللہ عنہ نے کی تھی وہی انہوں نے بھی کر لی۔