مسند الإمام الشافعي
كتاب الصلاة— نماز کے مسائل
بَابُ الْقَصْرِ صَدَقَةٌ وَفَضِيلَةُ الْقَصْرِ فِي السَّفَرِ باب: قصر نماز صدقہ ہے اور سفر میں قصر کرنے کی فضیلت
حدیث نمبر: 354
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، وَعَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنِ ابْنِ [ ص: 330 ] جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا [النِّسَاءِ: 101] فَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ؟ فَقَالَ عُمَرُ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا عَلَيْكُمْ، فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ" .حافظ محمد فہد
یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بیان فرماتے ہیں میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم نمازوں کو قصر کرو، اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر ستائیں گے [النساء: 101] اب تو لوگوں کو امن ہے؟“ تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھے بھی اس بات پر تعجب ہوا تھا جس پر آپ کو ہوا ہے تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ صدقہ ہے، صدقہ کیا ہے لہٰذا تم اس کے صدقے کو قبول کرو۔“