مسند الإمام الشافعي
كتاب الصلاة— نماز کے مسائل
بَابُ مَسَافَةِ مَا لَا تُقْصَرُ الصَّلَاةُ فِيهِ وَمَا تُقْصَرُ فِيهِ باب: وہ مسافت جس میں نماز قصر نہیں ہوتی اور وہ جس میں قصر کی جائے گی
حدیث نمبر: 347
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّهُ سُئِلَ: أَتُقْصَرُ الصَّلَاةُ إِلَى عَرَفَةَ؟ فَقَالَ: لَا، وَلَكِنْ إِلَى عُسْفَانَ وَإِلَى جُدَّةَ وَإِلَى الطَّائِفِ.حافظ محمد فہد
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ان سے پوچھا گیا: ”کیا عرفہ تک نماز قصر کی جائے گی؟“ فرمایا: ”نہیں بلکہ عسفان، جدہ اور طائف تک (سفر کی صورت میں) قصر ہو گی۔“