مسند الإمام الشافعي
كتاب الصلاة— نماز کے مسائل
بَابُ الْمُحْدِثِ وَالْحَاقِنِ وَالْحَاقِبِ باب: جس کا وضو ٹوٹ گیا ہو، یا جسے پیشاب یا پاخانے کی شدت سے حاجت ہو (اس کی نماز کا بیان)
حدیث نمبر: 326
أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ، عَنْ هِشَامٍ، يَعْنِي: ابْنَ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ: أَنَّهُ خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ فَصَحِبَهُ قَوْمٌ، فَكَانَ يَؤُمُّهُمْ، فَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَقَدَّمَ رَجُلًا، وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَوَجَدَ أَحَدُكُمُ الْغَائِطَ، فَلْيَبْدَأْ بِالْغَائِطِ" . أَخْرَجَ الْأَرْبَعَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْإِمَامَةِ.حافظ محمد فہد
عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ مکہ کی جانب نکلے تو ان کی ایک قوم نے رفاقت اختیار کی، وہ انہیں امامت کرواتے تھے، (ایک دفعہ) نماز کھڑی کی اور ایک آدمی کو پکڑ کر آگے کر دیا، اور فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب جماعت کھڑی ہو جائے اور تم میں سے کسی کو پاخانہ کی حاجت ہو تو وہ پہلے پاخانہ سے فارغ ہو۔“