مسند الإمام الشافعي
كتاب الصلاة— نماز کے مسائل
بَابُ الْمُحْدِثِ وَالْحَاقِنِ وَالْحَاقِبِ باب: جس کا وضو ٹوٹ گیا ہو، یا جسے پیشاب یا پاخانے کی شدت سے حاجت ہو (اس کی نماز کا بیان)
حدیث نمبر: 323
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ فِي صَلَاةٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ، ثُمَّ أَشَارَ بِيَدِهِ: امْكُثُوا ثُمَّ رَجَعَ عَلَى جِلْدِهِ أَثَرُ الْمَاءِ.حافظ محمد فہد
عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے نمازوں میں سے کسی نماز میں تکبیر کہی، پھر ہاتھ سے اشارہ کیا ”ٹھہرو“، پھر واپس لوٹے تو آپ کی جلد پر پانی کے اثرات تھے۔