مسند الإمام الشافعي
كتاب الصلاة— نماز کے مسائل
بَابٌ فِي إِعَادَةِ الصَّلَاةِ مَعَ الْإِمَامِ وَمَا لَا يُعِيدُ باب: امام کے ساتھ نماز دہرانے اور کن صورتوں میں نہ دہرانے کا بیان
حدیث نمبر: 280
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ: مَنْ صَلَّى الْمَغْرِبَ وَالصُّبْحَ، ثُمَّ أَدْرَكَهُمَا مَعَ الْإِمَامِ فَلَا يُعِيدَنَّهُمَا. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.حافظ محمد فہد
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ جس نے مغرب اور صبح کی نماز پڑھ لی، پھر ان نمازوں کو امام کے ساتھ بھی پا لیا تو وہ ان کو ہرگز نہ (دوبارہ) پڑھے۔