مسند الإمام الشافعي
كتاب الصلاة— نماز کے مسائل
بَابُ التَّشْدِيدِ عَلَى مَنْ لَمْ يَحْضُرْ صَلَاةَ الْعِشَاءِ جَمَاعَةً باب: عشاء کی نماز میں باجماعت شریک نہ ہونے والوں پر وعید کا بیان
أَخْبَرَنَا الْأَصَمُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ فَيُحْطَبَ، ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَيُؤَذَّنَ بِهَا، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيَؤُمَّ النَّاسَ، ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ يَجِدُ عَظْمًا سَمِينًا أَوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ لَشَهِدَ الْعِشَاءَ" .ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے: میں نے ارادہ کیا کہ میں لکڑیاں جمع کرنے کا حکم کروں، پھر نماز کے لیے اذان کا حکم دوں اور اذان کہی جائے، پھر کسی کو لوگوں کو نماز پڑھانے کے لیے کہوں، پھر میں ان لوگوں کی طرف جاؤں (جو نماز میں شریک نہیں ہوتے) اور ان کے گھروں کو ان پر آگ لگا دوں۔ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ان میں سے کسی کو اگر یہ علم ہو جائے کہ اسے گوشت سے پر موٹی ہڈی یا دو اچھے پائے مل جائیں گے، تو نمازِ عشاء میں لپک کر آ جائے۔“