مسند الإمام الشافعي
كتاب الصلاة— نماز کے مسائل
بَابُ الْإِشَارَةِ وَتَرْكِ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ باب: نماز میں اشارہ کرنے اور کلام ترک کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 189
حَدَّثَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْجِدَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، وَكَانَ يُصَلِّي، وَدَخَلَتْ عَلَيْهِ رِجَالٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ. فَسَأَلْتُ صُهَيْبًا كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ؟ قَالَ: كَانَ يُشِيرُ إِلَيْهِمْ.حافظ محمد فہد
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ بنو عمرو بن عوف کی مسجد میں تشریف لائے، آپ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے کہ انصار کے لوگ آئے اور وہ آپ ﷺ کو (نماز کی حالت میں) سلام کرتے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے صہیب رضی اللہ عنہ سے پوچھا، رسول اللہ ﷺ انہیں کیسے جواب دیتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا: آپ ﷺ ان کی طرف اشارہ کرتے تھے۔“