مسند الإمام الشافعي
كتاب الصلاة— نماز کے مسائل
بَابُ مَا يَحُولُ بَيْنَ الْمُصَلِّي وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ باب: نمازی اور قبلہ کے درمیان حائل ہونے والی چیزوں کا بیان
حدیث نمبر: 183
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَبْطَحِ فَخَرَجَ بِلَالٌ بِالْعَنَزَةِ فَرَكَزَهَا فَصَلَّى إِلَيْهَا، وَالْكَلْبُ وَالْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْهِ.حافظ محمد فہد
ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان فرماتے ہیں کہ: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو ابطح مقام پر (نماز پڑھتے ہوئے) دیکھا، بلال رضی اللہ عنہ نیزہ لے کر آئے اور اس کو گاڑ دیا، تو آپ ﷺ نے (اس کو سترہ بنا کر ) نماز پڑھی۔ جبکہ کتا، عورت اور گدھا آپ کے آگے سے گزرتے۔“