مسند الإمام الشافعي
كتاب فضائل قريش وغيرهم وأبواب متفرقة— قریش وغیرہ کے فضائل اور متفرق ابواب کا بیان
بَابُ أَخْبَارٍ مُتَفَرِّقَةٍ باب: مختلف باتوں کا بیان
حدیث نمبر: 1815
قَالَ الرَّبِيعُ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: سُئِلَ أَبُو حَنِيفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الصَّائِمِ يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ وَيَطَأُ إِلَى اطِّلَاعِ الْفَجْرِ، وَكَانَ عِنْدَهُ رَجُلٌ نَبِيلٌ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ طَلَعَ الْفَجْرُ نِصْفَ اللَّيْلِ؟ فَقَالَ: الْزَمِ الصَّمْتَ يَا أَعْرَجُ.حافظ محمد فہد
ربیع نے کہا میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہتے ہیں: امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے روزہ دار کے متعلق پوچھا گیا کہ وہ طلوعِ فجر تک کھاتا، پیتا اور مباشرت کرتا ہے (تو اس کا کیا حکم ہے؟)۔ ان کے پاس ایک معزز آدمی بیٹھا ہوا تھا جس نے کہا: ”اگر فجر آدھی رات کو طلوع ہو جائے تو آپ کا کیا خیال ہے؟“ تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اے لنگڑے! خاموش ہو جاؤ۔“