حدیث نمبر: 1813
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: سُئِلَ ابْنٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ مَسْأَلَةٍ، فَلَمْ يَقُلْ فِيهَا شَيْئًا، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّا لَنُعْظِمُ أَنْ تَكُونَ ابْنَ إِمَامَيْ هُدًى، تَسْأَلُ عَنْ أَمْرٍ لَيْسَ عِنْدَكَ فِيهِ عِلْمٌ. فَقَالَ: أَعْظَمُ وَاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ عِنْدَ اللَّهِ وَعِنْدَ مَنْ عَرَفَ اللَّهَ وَعِنْدَ مَنْ عَقَلَ عَنِ اللَّهِ أَنْ أَقُولَ بِمَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ أَوْ أُخْبِرَ عَنْ غَيْرِ ثِقَةٍ.
حافظ محمد فہد

یحییٰ بن سعید نے بیان فرمایا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بیٹے سے مسئلہ پوچھا گیا تو انہوں نے کوئی جواب نہ دیا، پھر ان سے کہا گیا: ”ہم یہ بات بڑی (عجیب) سمجھتے ہیں کہ آپ دو ہدایت یافتہ اماموں (یعنی عمر اور ابن عمر رضی اللہ عنہما) کے بیٹے ہیں اور آپ سے ایک مسئلہ پوچھا گیا جبکہ آپ کے پاس اس کے متعلق علم نہیں ہے؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”اس سے بھی بڑی عجیب بات اللہ کے ہاں، اور جس نے اللہ کو پہچانا، اور جس نے اللہ سے سمجھ حاصل کی یہ ہے کہ میں وہ بات کہوں جس کا میرے پاس علم نہیں ہے، یا میں کسی غیر ثقہ (راوی) سے کوئی بات بتاؤں۔“

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب فضائل قريش وغيرهم وأبواب متفرقة / حدیث: 1813
تخریج حدیث أيضاً۔