مسند الإمام الشافعي
كتاب فضائل قريش وغيرهم وأبواب متفرقة— قریش وغیرہ کے فضائل اور متفرق ابواب کا بیان
بَابُ الْحَدِيثُ لَا يَرْوِيهِ إِلَّا الثِّقَاتُ باب: حدیث کو صرف ثقہ راوی ہی روایت کرے
حدیث نمبر: 1812
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: إِنِّي لَأَسْمَعُ الْحَدِيثَ أَسْتَحْسِنُهُ فَمَا يَمْنَعُنِي مِنْ ذِكْرِهِ إِلَّا كَرَاهِيَةُ أَنْ [ ص: 72 ] يَسْمَعَهُ سَامِعٌ فَيَقْتَدِيَ بِهِ أَسْمَعُهُ مِنَ الرَّجُلِ لَا أَثِقُ بِهِ قَدْ حَدَّثَ عَمَّنْ أَثِقُ بِهِ وَأَسْمَعُهُ مِنَ الرَّجُلِ أَثِقُ بِهِ قَدْ حَدَّثَ بِهِ عَمَّنْ لَا أَثِقُ بِهِ. وَقَالَ سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ: لَا يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الثِّقَاتُ.حافظ محمد فہد
ہشام بن عروہ نے اپنے باپ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا: ”بعض دفعہ میں کوئی حدیث سنتا ہوں اور وہ مجھے اچھی بھی لگتی ہے لیکن میں اسے بیان نہیں کرتا کہ کوئی سننے والا سن کر اس پر عمل کرے گا، جبکہ میں وہ بات ایک ایسے آدمی سے سنتا ہوں جس کی میں توثیق نہیں کرتا حالانکہ اس نے اس سے بیان کی ہوتی ہے جس کی میں توثیق کرتا ہوں۔ اور بعض دفعہ کسی ثقہ آدمی سے سنتا ہوں جبکہ وہ کسی غیر ثقہ سے بیان کر رہا ہوتا ہے۔“ سعد بن ابراہیم نے فرمایا: ”نبی ﷺ سے ثقہ راویوں کے علاوہ اور کوئی احادیث نہ بیان کرے۔“