مسند الإمام الشافعي
كتاب فضائل قريش وغيرهم وأبواب متفرقة— قریش وغیرہ کے فضائل اور متفرق ابواب کا بیان
بَابُ النَّصِيحَةِ باب: خیر خواہی کا بیان
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: نَضَّرَ اللَّهُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَالَتِي فَحَفِظَهَا وَوَعَاهَا وَأَدَّاهَا، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى غَيْرِ فَقِيهٍ وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ. ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُسْلِمٍ: إِخْلَاصُ الْعَمَلِ للَّهِ تَعَالَى، وَالنَّصِيحَةُ لِلْمُسْلِمِينَ، وَلُزُومُ جَمَاعَاتِهِمْ، فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ . أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الرِّسَالَةِ.عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس بندے کے چہرے کو ترو تازہ رکھے جس نے میری بات سنی، اس کو محفوظ کیا، اس کو یاد رکھا، اور لوگوں تک پہنچا دیا، کیونکہ بعض دفعہ علم کے حامل خود فقیہ نہیں ہوتے (یعنی استنباط کا ملکہ نہیں رکھتے) اور بعض دفعہ علم کے حامل اس کی طرف بات پہنچا دیتے ہیں جو ان سے بھی زیادہ فقیہ ہوتا ہے۔ تین خصلتیں ایسی ہیں جن میں ایک مسلمان کا دل خیانت نہیں کرتا (یعنی مسلمان انہیں خوش دلی سے اپناتا ہے) اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کے ساتھ عمل کرنا، مسلمانوں کی خیر خواہی کرنا، اور مسلمانوں کی جماعت سے وابستہ رہنا، کیونکہ ان کی دعا انہیں پیچھے سے گھیرے میں لیے ہوئے ہوتی ہے۔“