حدیث نمبر: 1801
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ، فَإِنَّهُ إِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ [ ص: 66 ] وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ فَمَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ مِنْ أَمْرٍ، فَائْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، وَمَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا" .
حافظ محمد فہد

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس (چیز) کو میں نے تمہارے لیے چھوڑ دیا ہے تم مجھے بھی اس میں چھوڑ دو ، کیونکہ تم سے پہلے کی امتیں اپنے بہت زیادہ (غیر ضروری) سوالات اور انبیاء کے سامنے اپنے اختلافات کی وجہ سے تباہ ہوئیں اور میں جس کام کا تمہیں حکم دوں تم اسے جتنی طاقت رکھتے ہو بجا لاؤ اور جس کام سے میں تمہیں روکوں تم اس سے رک جاؤ۔“

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب فضائل قريش وغيرهم وأبواب متفرقة / حدیث: 1801
تخریج حدیث اخرجه البخارى، الاعتصام بالكتاب والسنة، باب الاقتداء بسنن رسول الله (728) ومسلم، الحج، باب فرض الحج مرة في العمر (1337)۔